|
اھدنا الصراط المستقیم ہدایت پر مضمون جاری ہے پھر اس سلسلے میں تین قسم کے لوگ بیان فرمائے متقین منکرین اور منافقین ، پھر معترضین کے سوالات کے جوابات دیے معترضین چونکہ ماننے کو تیار نہیں تھے تو طرح طرح کے اعتراضات ڈھونڈتے اس کا سوال عبس تھا تو سخت جواب دیا اب اگے فرمایا جاتا ہے ---------يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرًۭا کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ معترضین اللہ کے قانون میں خود گمراہ ہو جاتے ہیں اللہ رحیم و کریم ذات ہے اپنے بندوں پر مہربان ہے اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا یہ فاسقین خود گمراہی کے قابل ہو جاتے ہیں اب اگے ان فاسقین کا تفصیل بیان کیے جاتے ہیں ---------ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ کہ یہ فاسقین وہ لوگ ہیں جو اللہ سے کیے وعدے کو توڑتے ہیں بعد اس کے کہ وہ مضبوط ہو چکے۔ اول وعدہ ازل کا وعدہ کہ عالم ارواح میں اللہ نے سب سے وعدہ لیا " الست بربکم " کہ کیامیں تمھارا رب نہیں ہوں سب نے کہا قالو بلیٰ کہ تو ہمارا رب ہے خود انسان کی ضمیر بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میرا خالق مالک اللہ ہے اور حدیث شریف میں ایا ہے کہ ہر انسان اسلامی فطرت پر پیدا ہوتا ہے بعد میں ماحول گھرانا اس کو اسی طرح بنا دیتا ہے تو انسانی فطرت اور ضمیر میں یہ یہ بات موجود ہے کہ میرا خالق مالک اللہ ہے تو یہ فاسقین اپنے فطرت اور ضمیر کے خلاف کرتے ہیں، یہ فطری تقاضہ ہے کہ کوئی ناگہانی افت مصیبت آ جائے تو ہر کوئی بے اختیار یا اللہ خیر یا اللہ خیر پکارنے لگتا ہے( ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کا واقعہ اس ضمن میں مشہور ہے )۔ تو ایک ازل کا وعدہ ، اور بعد میں پیغمبران حق اس بات کی یاد دہانی کے لیے ائے نبوت کا دروازہ جب بند ھوگیا تو نبی اخر الزمان صہ کے بعد نائبین رسول یہی یاد دہانی کراتے ہیں تو یہ وعدے کی مضبوطی ہے ۔ یہ( فاسقین )وعدہ خلافی کے ساتھ ساتھ اللہ کے احکام کو قطع کرتا ہے جس پر مسلسل عمل پیرا ہونا تھا تو یہ مسلسل عمل پیرا نہیں ہو سکے تو جو فرد یا معاشرہ اللہ اور مخلوق سے وعدے پورا نہیں کرتا اور احکام الہی پر مسلسل نہیں چلتا تو وہ شخص گمراہ اور معاشرے میں فساد برپا ہوگا، تم لوگ دنیا میں ایک خاص مقصد کے لئے بھیجے گئےکہ اور زیادہ ترقی کرے اشرف المخلوقات بنایا عالم ارواح سے اور بلند ترقی کرے اللہ نے دنیا میں بھیج کر ھدایت نامہ بھیجاجس پر چل کر خوف و خطر نہ ہوگا تو جس مقصد کے لیے بھیجا وہی پورا نہیں کیا تو خسارہ کیا روحانی ترقی کے بجاۓ یہ نیچے گرگئے یہ گمراہی ہے قران کیساتھ کیوں گمراہ ہوئے قران تو روح کی غذا اور ترقی کا ذریعہ ہے مگر انہوں نے اپنے اختیار کا غلط استمال کیا بے جا اعتراضات کئے۔ ---------كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ اور اے لوگوں تم کس طرح ناشکری کرتے ہو یہاں کفر سے مراد کفرانہ نعمت ہے کہ تم کس طرح اللہ کا ناشکری کرتے ہو حال یہ ہے حقیقت یہ ہے کہ تم نہیں تھے تو اللہ نے تم کو زندہ کیا یعنی پیدا کیا پھر موت دے گا پھر دوبارہ زندہ کرے گا جس دنیاوی زندگی میں تم اکڑاتے ہو یہ عارضی ہے اور دوبارہ پھر زندہ کیۓ جاؤ گے پھر اس کے ہاں لوٹ کر جانا ہے اس کے حضور کھڑا ہونا ہے ---------هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَكُم اور وہی اللہ ہے جس نے پیدا کیا ہر وہ شے جو زمین میں ہے وہ تمہارے فائدے کے لیے پھر متوجہ ہوا اسمانی دنیا کو اور برابر کئے سات اسمان تہہ در تہہ اور وہی اللہ ہر شے پر علیم ہے یعنی اوپر بلندیوں سے تمھارے لئے موسم ہوائیں پانی وغیرہ کا بندوبست کیا مراد یہ کہ نیچے اوپر سب کچھ تیرے فائدے کے لیے ہیں تو اے انسان تو کس لیے ہیں؟۔ یہ تین رکوع اس صورت کا مقدمہ تھا اب اگے سورۃ کا مضمون شروع ہوگا۔ حدیث عَن ابْن عَبَّاس قَالَ: «مَا ظَهَرَ الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ وَلَا فَشَا الزِّنَا فِي قَوْمٍ إِلَّا كَثُرَ فِيهِمُ الْمَوْتُ وَلَا نَقَصَ قَوْمُ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا قَطَعَ عَنْهُمُ الرِّزْقَ وَلَا حَكَمَ قَوْمٌ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الدَّمُ وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بالعهد إِلا سُلِّطَ عَلَيْهِم عدوهم» . رَوَاهُ مَالك حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جس قوم میں خیانت عام ہو جائے تو اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے ، جس قوم میں زنا پھیل جائے تو ان میں اموات بڑھ جاتی ہیں ، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو ان سے رزق روک لیا جاتا ہے ، جو قوم ناحق فیصلے کرنے لگے تو ان میں قتل عام ہو جاتا ہے اور جو قوم عہد شکنی کرتی ہے تو ان پر دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ رواہ املک ۔ Mishkat ul Masabih#5370 |