| ہدایت کے مضمون میں بندگی کا حکم دیا کہ صرف ایک اللہ کی بندگی اختیار کرو چونکہ یہ لوگ جس کا ذکر پہلے کیا گیا اس کو تیار نہیں تھے تو طرح طرح کے بہانے اور اعتراضات کرنے لگے کہ یہ تو اللہ کا کلام نہیں ہے یہ ایک بشر پیش کر رہا ہے تو یہاں سوال کا ذکر نہیں ہے صرف جواب دیا جاتا ہے ---------وَإِن كُنتُمْ فِى رَيْبٍۢ مِّمَّا نَزَّلْنَا اور اگر تم شک کرتے ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا اپنے بندے پر تو تم بھی اس کی مثل کوئی صورت پیش کرو( حج کے ایام میں مختلف شعراء جمع ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو جواب دیتے شعر و شاعری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سورۃ کوثر کے پہلے دو ایات خانہ کعبہ کے دیوار پر چسپاں کر دیے تو کوئی بھی اس کا جواب نہیں دے سکا اخر میں ایک ذہین شاعر نے نیچے یہ لکھا ما ھٰزا کلام البشر یہ کوئی انسان کا کلام نہیں ہے تو اللہ تعالی نے ان کو یہ بتایا کہ تم بھی ایسی کوئی مثل کوئی صورت پیش کرو اور اپنے ساتھ اپنے شھداء ( معبودیں) بھی شریک کرو ---------فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ اگر کر سکو مگر تم ایسا نہیں کر سکو گے ہر گز نہیں کر سکوگے اور ایسی صورت میں تم پر عذاب لازمی ہے تم اپنے اپ کو اگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہے ،پتھر مجسمےاور مورتیاں ہیں یہ صرف ذہنی عذاب کے لیے کہا کہ اس کو ذہنی عذاب کے لیے اس کی وہ پوجا کرتے وہ پتھر اور مجسم بھی اگ میں ڈالیں جائیں گے اور اگ تیار کیا گیا ہے کافروں کے لیے ، ---------وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ اور خوشخبری دوں ان کوجو ایمان لائے اور اپنے اس دعوی ایمان پر مناسب حال عمل کرے تو ان کے لیے باغات جنت ہے جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوگی ہر قسم کے پھل میوے اس میں اس کو دیے جائیں گے اور جب یہ کھائیں گے اس سے تو کہیں گے کہ یہ وہی پھل میوے جات ہیں دنیا کے پھلوں کے متشابہ، لذت میں بہت لذیذ مگر شکل میں متشابہ ہوگی اور اس کے لیے جنت میں پاک صاف بیویاں ہوں گی انسان فطرتی لحاظ سے جسمانی لحاظ سے یکتا اکیلا موضوع نہیں لگتا بہت سرمایہ دار کیوں نہ ہو اس کا جوڑا بیوی نہ ہو تو موضوع نہیں لگتا اس طرح عورت کے لیے بھی، تو وہاں ان کے لیے ان کے مزاج کے مطابق بیویاں ہوگی اور عورتوں کے لیے پاک دامن شوہر ہر عیب سے نقص سے پاک اور یہ چند دن یا مدت کے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے --------- إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ اب معترضین کا ایک اور سوال کہ اللہ تعالی یہ مثالیں وغیرہ کیوں پیش کرتا ہے مچھر مکھی کا ان مثالوں سے اللہ کا کیا ہے تو اس کا جواب دیا جاتا ہے تو یہ مثالیں مفہوم کی کی وضاحت کے لیے بیان کی جاتی ہے کہ مفہوم کی وضاحت ہو موقع کے لحاظ سے مکھی کا مثال صحیح ہو تو وہاں پر ہاتھی کا مثال کیوں دے یا مکھی سے بھی کمتر شے کا مثال دیں وہی خوب جانتا ہے۔ تو انکو اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی منع نہیں ہوتا کہ بیان کرے مثال مکھی یا ایسا بھی کمزور شے کا پس جن کا ایمان ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کا ایسی مثالوں کا کیا ہے۔ تو اب انکو انکے ٹیڑھے ذہنیت کے مطابق جواب دیا جاتا ہے اللہ ایسی مثالوں کے ذریعے ذیادہ تر کو گمراہ کرتا ہے اور ذیادہ کو ھدایت دیتا ہے اور گمراہ نہیں ہوتا اس سے مگر فاسقین ( قانون شکن )۔ حدیث وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا» . فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «بَلْ أَنْتُم يَوْمئِذٍ كثير وَلَكِن غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ» . قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: «حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ (گمراہ) قومیں تمہارے خلاف (لڑنے کے لیے) دوسری قوموں کو بلائیں جس طرح کھانے والے کھانے کے برتن کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۔‘‘ کسی نے عرض کیا : اس روز ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسے ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ اس روز تم زیادہ ہو گے ، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو گے ، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دل میں وہن ڈال دے گا ۔‘‘ کسی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہن کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا سے محبت اور موت سے نفرت ۔‘‘ ، «رواہ ابوداؤد و البیھقی فی دلائل النبوۃ» ۔ Mishkat ul Masabih#5369 |